حماد صافی،آذان خان انصاف اور حامد شبیر بہترین صلاحتیوں سے مالامال بچے ہیں.

( سپوکن یونیورسٹی پشاور میڈیا سیل رپورٹ) آج ہم اآپ لوگوں کو تین ایسے بچوں سے ملائینگے جواپنی ذہانت اور غیر معمولی صلاحیتوں کی بنا پر سُپرکڈ پروگرام کا حصہ بن چکے ہیں .سُپرکڈپروگرام بچوں کا ایک ایسا پروگرام ہے جس میں بچوں کو ایک سال کے کم ترین عرصے میں انگریزی زبان اور کمپیوٹروانٹرنیٹ کے اسراز و رموز سے اگاہ کیا جاتا ہےاسی ایک سال میں انکی ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ انکے اندر چھپے ٹیلنٹ کو بھی پالش کیا جاتا ہے.ذہنی تربیت کے حوالے سے عملی اور جدید طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جسکی بدولت بچے کی ذہنی استعداد بڑھ کر اُسے عام بچوں سے مختلف کردیتی ہیں.حماد صافی اس وقت سُپرکڈپروگرام کے ہیڈ کی حثیت سے کام کر رہے ہیں اور انکے ساتھ دوسرے بچے بھی خوش ہیں. اس پروگرام کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس میں بچے حد درجہ انٹرسٹ لیتے ہیں جو عام طور پر بچے تعلیم کے میدان میں سکولوں کے اندر نہیں لیتے.سُپرکڈ پروگرام وطن عزیزپاکستان کا ایک ایسا پروگرام ہے جو مستقبل میں پاکستان کو بڑے بڑے نام دیگا جو ہر محاذ پر ملک و قوم کا نام روشن کرتے نظر آئینگے.حماد صافی،آذان خان انصاف،ارم عرفان،خدیجہ نجات،مریم اور حماد شبیرتمام بچے باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ دلیر بھی ہیں اگلے کچھ ہی مہینوں میں یہ بچے تربیت لےکر ثابت کرینگے کہ اس ملک میں ٹیلنٹ اور ذہانت کی کوئی کمی نہیں‌بس اگر ضرورت اگر کسی چیز کی ہے تو وہ توجہ کی ہے اگر بچوں کے اوپر درست طریقے سے توجہ دی جائے تو یقیننا نتائج بڑے مثبت نکلتے ہیں.اس دفعہ انشااللہ سُپرکڈپروگرام سے پاکستان کوایسے بچے ملینگے جونہ صرف یہ ثابت کرینگے کہ وہ دنیا کے ذہین ترین بچے ہیں بلکہ اقبالٌ کے فلسفہ خودی پر بھی پورے اُترکر ایک نئی روشن صبح کا آغاذ کرینگےاور جنکی ذبان پر ہوگا کہ اُس رزق سے موت اچھی جس سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی.سُپرکڈ پروگرام میں ڈسپلن کا حد سے ذیادہ خیال رکھا جاتا ہےکیونکہ ڈسپلن ہی کے ذریعے مشکل سے مشکل ترین مہم میں‌کامیابی حاصل کی جاسکتی ہیں.ہم پچھلے پندرہ سال سے بچوں کے ساتھ کسی نہ کسی ذریعے سے انگیج رہے ہیں جوکہ میرے خیال میں تجربے کے لیے کافی ہیں جس کا ہم اب اس پروگرام میں پوری طرح فائدہ لے رہے ہیں.ایک بہت ہی اہم بات جو ہم یہاں کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ دنیا کا ہر بچہ قدرتی طور پر ذہین ہوتا ہے بس صرف توجہ اور بہترین ماحول کی ضرورت ہیں اگر کسی بہت ہی نالائق اور کمزور دماغ بچےکو اچھا ماحول اور صاحب نظراُستاد مل جائے تو پھر اُس بچے سے بعید نہیں کہ کچھ ہی مہینوں میں ناقابل یقین حد تک چست و چالاک ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین و فطین ہوجائے بس مصیبت یہ ہے کہ یہاں ہمارے معاشرے میں تعلیم سے ذیادہ پیسے کو اہمیت دی جارہی ہیں ذیادہ ترتعلیمی ادارے کاروباری سوچ لے کر چل رہے ہیں اُنکو اس بات سے سروکار نہیں کہ جو بچے پڑھ لکھ کر نکل رہے ہیں کیا وہ اس قابل بھی ہیں کہ وہ کسی بڑے پلیٹ فارم پر پاکستان کا دفاع کر سکتے ہیں اگر بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھا دیا جائے کہ وہ اگر پڑھ رہا تو صرف اس وجہ سے کہ اگے چل کر وہ ملک و قوم کی خدمت کریگا اور اس خدمت کی تشریح ہم ابھی سے اسی سُپرکڈپروگرام میں بچوں کے سامنے کر رہے ہیں کہ کیسے وہ تعلیم کی مدد سے لوگوں کے اندر شعوربیدار کر سکتے ہیں .معاشرے کو تب تک ٹھیک نہیں‌کیا جاسکتا جب تک بچوں کے اوپر کام نہیں ہوگا بچے اوپر اپنے بڑوں سے سیکھ کرمعاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں .ہمارا معاشرہ ایک گول سرکل کی طرح ہے چھوٹے بڑے بن کر بوڑھے ہوجاتے ہیں اور انکے نیچےبچے جوان ہوکر وہی کچھ کرتے ہیں جو اُنکو اپنے بڑوں سے میراث میں ملا ہوتا ہے.مثال کے طور پر بچوں کے سامنے سیگرٹ پینا اسلحہ کی نمائش کرنا یا فون پر کسی کو گالیاں دینا یہ تمام تر چیزین بچے کے دماغ پر بہت بُری طرح اثر کرتی ہیں اور پھر جو کچھ روزانہ اخبارات کی زینت بنا ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکی چپھی بات نہیں.ہمارا ارادہ ہے کہ سُپر کڈ پروگرام کوپاکستان کے تمام شہروں تک پھیلا کراس پروگرام کے فوائد ملک بھر کے بچوں تک پہنچا سکے.جہاں تک بچوں کا تعلق ہے وہ ہمیں بہترین رسپونس دے رہے ہیں وہ نہ صرف سیکھ رہے ہیں بلکہ اُنکا جنون دیکھ کر مجھے رشک بھی بہت ہوتا ہے کہ یہ بچے کتنے شوق سے اس پروگرام کا حصہ بنے ہوئے ہیں سکول سے چھٹی کے بعد یہ جس طرح‌بھاگ‌‌کر ہمارے پاس پہنچ جاتے ہی وہ‌یقیننا‌‌ہمارے لیے قابل فخر ہے کیونکہ ایک طرف والدین بچوں ڈانٹ ڈپٹ کر سکول بھیجتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ بچے خود بھاگ کر ہمارے پاس پہنچ جاتے ہیں اسی کو کہتے ہیں سمارٹ ورک اگر بچوں پڑھ لیا جائے تو صرف ایک نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بچے کسی نہ کسی طریقے سے خود کو منوانا چاہتے ہیں اور خود کو منوا کر بعد میں وہ جو کچھ محسوس کرتے ہیں وہی اہم ترین چیز ہوتی ہیں بچے کے اندر جو ٹیلینٹ چھپا ہوتا ہے وہ اُسکا درست طریقے سے اظہار نہیں‌کرسکتا اسکے لیے بہت ہی عرق ریزی سے کام کرنا پڑتا ہے یہی محنت ومشقت والا آج کے دور میں کسی کی بس بات نہیں ایک اُستاد سکول میں پڑھا کر صرف تنخواہ کا انتظار کرتا ہے وہ نصاب سے پڑھاتا ہے اور یہی فرض نبھا کر نکل جاتا ہے .کسی کو کیا پڑی ہیں کہ بچے کو نزیک سے سمجھے اور خلوص کے ساتھ کام کرے جس دن ایسی سوچ پیدا ہوئی تو یہ ملک حقیقی معنوں میں دنیا کا سب سے طاقت ور ترین ملک بن جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں