محنت میں عظمت آمنہ اور رابعہ دونوں بہنیں تھیں۔آمنہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا جبکہ رابعہ اپنا سارا وقت کھیل کود میں گزارتی۔اُسے پڑھنے کا بالکل شوق نہیں تھا۔سکول میں جب اُسکا ٹیسٹ ہوتا تو وہ نکل کرکے دیتی تھی جبکہ آمنہ اپنا ٹیسٹ خوب دل لگا کر یاد کرتی اور اپنے ٹیسٹ میں اچھے نمبروں سے اول پوزیشن لے لیتی۔

محمد ابوبکر ساجد:
آمنہ اور رابعہ دونوں بہنیں تھیں۔آمنہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا جبکہ رابعہ اپنا سارا وقت کھیل کود میں گزارتی۔اُسے پڑھنے کا بالکل شوق نہیں تھا۔سکول میں جب اُسکا ٹیسٹ ہوتا تو وہ نکل کرکے دیتی تھی جبکہ آمنہ اپنا ٹیسٹ خوب دل لگا کر یاد کرتی اور اپنے ٹیسٹ میں اچھے نمبروں سے اول پوزیشن لے لیتی۔اِسی وجہ اُسکے اساتذہ اور ماں باپ اُس سے بہت پیار کرتے تھے جس کی وجہ سے رابعہ اُس سے جلنے لگی۔وہ ہر وقت اُسے کوئی نہ کوئی نقصان پہنچانے کے چکر میں رہتی لیکن ہمیشہ وہ اپنے مشن میں ناکام ہو جاتی۔اِسلئے اُس نے تنگ آکر آمنہ کا پیچھا چھوڑ دیا۔
آمنہ اپنا وقت پڑھائی میں گزارتی جبکہ رابعہ اپنا وقت کھیل کود میں ۔وقت اِسی طرح گزرتا گیا۔اب اُن کے امتحان سر پر تھے۔رابعہ کو اُسکی کوئی فکر نہ تھی جبکہ آمنہ امتحانات کی تیاری خوب دل لگا کر کر رہی تھی۔آخر کار ایک ہفتہ بعد اُن کے امتحانات شروع ہوگئے۔
انگلش کا پیپر تھا،آمنہ کو پیپر ملنے کا شدت سے انتظار تھا ۔ایک گھنٹے بعد اُن کو پیپر مل گیا۔اُن کی میڈم نے سب بچوں کو سکول کے گراؤنڈ میں بٹھایا اور سب کے ہاتھ میں انگلش کا پیپر تھما دیا۔
آمنہ نے جلدی جلدی پیپر حل کرکے دے دیا۔ اِسی طرح سب بچوں نے پیپر حل کر لیا۔اب رابعہ گراؤنڈ میں اکیلی بیٹھی تھی کیونکہ اُسکی پیپر کی تیاری نہ تھی اِسلئے اُسے پیپر نہیں آرہا تھا۔
اِسی دوران پیپر کا وقت ختم ہوگیا اور انکی میڈم نے اُس سے پیپر لے لیا۔جب اُسے کچھ آتا ہی نہیں تھا تو وہ پیپر کیسے حل کرتی۔یوں سارے امتحانات ہوگئے۔آمنہ اپنے سارے پرچے حل کرتی جبکہ رابعہ خالی چھوڑ دیتی۔
امتحانات ختم ہوئے تو سب کو رزلٹ کا شدت سے انتظارتھا۔ایک ماہ بعد رزلٹ آگیا۔آمنہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔کیونکہ اُس نے بہت اچھی پوزیشن اور انعام حاصل کیا تھا جبکہ رابعہ فیل ہوگئی۔فیل ہونے پر وہ خوب روئی لیکن اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، اب وقت گزر چکا تھا۔آمنہ بہت خوش تھی کیونکہ اُس کی محنت رنگ لائی اور وہ کامیاب ہوگئی اور رابعہ کو اُس کے نہ پڑھنے کا نتیجہ مل چکا تھا اور وہ ناکام ہوگئی تھی۔
بچو! ہمارے ملک کو آمنہ جیسے پڑھنے والے بچوں کی ضرورت ہے ،ہمیں بھی آمنہ کی طرح بننا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں