سُپرکڈ پروگرام کے ہیڈ کی چائینہ روانگی

(سپوکن یونیورسٹی میڈیا سیل رپورٹ) تفصیلات کے مطابق سُپرکڈ پروگرام کے ہیڈ حماد صافی رواں ماہ چائینہ کے چھ روزہ دورے پرچایئنہ جائینگے.جہاں پروہ چائینہ کے بڑے کاروباری شخصیات سے ملاقات بھی کرینگے ملاقات میں وہ پاکستان چائینہ اکنامک کوریڈورکے حوالےسے مختلف چائنیز کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں بھی کرینگے.حماد صافی نے یوایس ای میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کے دورے کرنا بھی میری تربیت کا حصہ ہے اور یہ دورہ بھی اسی تربیت کی ایک کڑی ہےجس میں میں چائینہ کے حوالے سے تاریخی معلومات اکھٹی کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے چائینر کاروباری شخصیات سے انٹرویوز بھی کرونگا.مستقبل میں میں دوسرے کئی ایشیائی و یورپین ترقی یافتہ ممالک کے دورے بھی کرونگاجس میں سنگاپور،ملایئشیا،تھائی لینڈ،ہانگ کانگ کے ساتھ ساتھ امریکہ،کینیڈا،انگلینڈ شامل ہیں.ملایئشیا کے حوالے سے میرا دورہ کئی حوالوں سے اہم رہے گا کیونکہ ملائیشیا کے دورے میں میں ملائشیا کے سابقہ وزیر اعظم اور عالمی شہرت یافتہ لیڈر ڈاکٹرمہاترمحمد سے ملاقات اور انٹرویو بھی کرونگا اس حوالے سے سابقہ وزیر اعظم کے سوشل امور نمٹانے والے شخصیات سے ہماری بات چیت چل رہی ہیں جو کہ اُنکی نظر میں ایک دس سالہ بچے کا ایک منفرد اور اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا.دوسری بات یہ ہے کہ سُپرکڈ پروگرام میں میں بہت کچھ سیکھ رہا ہوں مجھے اپنی صلا حتیوں کے بارے ٹھیک ٹھیک اندازہ ہورہا ہے کہ اگر بچوں کو ٹھیک طریقے سے توجہ دی جائے تو وہ بڑے کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں عام طور پر بچے سکول جاتے ہیں وہاں نصاب انکو پڑھایا جاتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو اس وقت انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کا دور ہے نصاب کے علاوہ بھی بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کے لیے پڑا ہوا ہے ہمیں بس پرانی روایات کو اب ختم کرنا چاہیے بچے کم عمر ی ہی میں بہت کچھ کر سکتے ہیں اور اپنے ملک کانام روشن کرسکتے ہیں.جس دن سُپرکڈ پروگرام کا ہیڈ بنا تو احساس ہوا کہ میرے اندر واقعی میرے اُستاد نے کچھ دیکھا ہے لہذا میں دل و جاں سے محنت کررہا ہوں تاکہ میری ذات سے میرے وطن کو بھرپور فائدہ پہنچے.حماد صافی نے اپنے بارے میں مزید بتاتےہوئے کہا کہ میری خوش قسمتی ہیں کہ میں ایک ایسے تعلیمی ادارے کا حصہ ہوں جہاں پر ہر دوسرا طالب علم تخلیقی سوچ کا حامل ہے اور پھر یہاں جتنے بھی اساتذہ موجود ہے وہ تمام کسی دور میں یہاں طالب علم تھے .یہاں تخلیقی سوچ کے حامل بہت سارے اساتذہ ہے جو میری تربیت میں حصہ لیتے ہیں ان اساتذہ میں طارق داودی،امر سہیل،حامد تلاش،عبدلصبوراور خلجی صاحب کا میں دل سے مشکور ہوں جو مجھے اپنا قیمتی وقت دیتے ہیں.یونیورسٹی آف سپوکن انگلش سے انگلش سیکھی اور اب سُپرکڈ پروگرام کے زیر تربیت ہوں عنقریب میں سُپرکڈ پروگرام میں بچوں کے لیے ایک سیمینار بھی منعقد کرونگا جس میں بچوں کی تربیت و ڈرو خوف ختم کرنے کے حوالے سے ذہنی ٹیکنیکس بھی سامنے لاونگا تاکہ بچوں کو اگے آنے میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے.پہلے پہل میں بھی خوف ذدہ اور ڈرا ڈرا سا رہتا تھا لیکن جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں بہت کچھ کر سکتا ہوں اور جیسا کہ علاجہ اقبال فرماتا ہے کہ ایک نوجوان کو شاہین کی طرح ہونا چاہیے اسلیے میں بھی شاہین بننے کے مرحلے سے گزر رہا ہوِں..چائینہ جانے کے حوالے سے انوئٹیشن کا انتظار کر رہا ہوں.اس سفر میں میرے ساتھ میرے ابو ہونگے جس نے مجھے آج چلنا سیکھایا آج میں جو کچھ بھی ہوں‌ وہ اپنے ابو کی وجہ سے ہوں وہ میری تربیت اور اچھے مستقبل کے لیے بہت ساری قربانیاں دے رہے ہیں.اساتذہ اور والدین کی اہمیت مسلمہ ہے جو بچے بھی والدین اور اساتذہ کی خدمت و عزت کرتے ہیں وہ ساری زندگی کامیاب و کامران رہتے ہیں اور اللہ تعالی اُنکے راستے کی تمام رکاوٹیں ہٹا دیتا ہے اور وہ تمام بچے جو اپنے والدین یا اساتذہ کی دل آذاری کرتے ہیں وہ کامیاب ہوکر بھی ناکام و نامراد بن جاتے ہیں..ایسی بہت ساری تاریخ ساز واقعیات موجود ہے جن سے سبق سیکھنا چاہیے..میں اپنے اساتذہ کی عزت و حرمت کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہوں کیونکہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپکو کامیابی تک پہنچانے کے لیے سیڑھی کاکام دیتے ہیں.سُپرکڈ پروگرام میں سب سے پہلے اساتذہ اور والدین کی عزت و خدمت کرنا سیکھا اور بار بار سیکھ رہا ہوں.

اپنا تبصرہ بھیجیں