جی ہاں، زمامِ وقت اب بھی آپ کے ہاتھ میں ہے

(سپوکن یونیورسٹی میڈیا سیل رپورٹ)دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ حصولِ رزق اور سماج میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے پیسہ ضروری ہوگیا ہے اور پیسہ کمانے کے لئے انسان مشین بن گیا ہے۔ اِس مشینی زندگی نے وقت کو محدود کیا اور سال سکڑ کر مہینوں، مہنیے سکڑ کر ہفتوں، ہفتے سکڑ کر دنوں اور دن سکڑ کر محض چند لمحوں تک آن پہنچے ہیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کے ساتھ پر لگ گئے ہوں۔ وقت اُڑان بھر کر آگے ہی آگے بھاگ رہا ہے اور ہم اِس کے پیچھے پیچھے لپکتے جا رہے ہیں۔
ہم پیار و محبت، سادگی و خلوص، وضع داری و رکھ رکھاؤ جیسی شاندار و پُر شکوہ زندگی سے نکل کر ایک مصنوعی اور نمائشی زندگی میں داخل ہوگئے ہیں جہاں ہر کوئی دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر اُس سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے۔ برادریوں اور قبیلوں کے دانا، منصف المزاج اور صاحب الرائے لوگ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ہیں۔ قحط الرجال کا سماں ہے، فرسودہ روایات و غیرت کے نام پر دوسروں کو بلی چڑھادینا عام بات ہے۔ جھوٹی، مصنوعی و نمائشی شان و شوکت کے حصول میں سرگرداں یہ بونے لوگ اپنی موقع پرستی و چرب زبانی، منافقت و دروغ گوئی اور پست ترین ذہنیت کے بل بوتے پر ہر برادری اور خاندان پر مسلط ہوچکے ہیں جنہوں نے دین پڑھا نہ دنیا دیکھی۔
علم و ہنر، ادب، تہذیب، خودداری اور شرافت سے تہی و محروم اِن موقع پرستوں نے ذاتی مفادات کی خاطر لوگوں کو برادری و قبیلے کے نام پر ایک دوسرے سے لڑایا۔ لوگوں کے حقوق کو سلب کیا، اُنہیں پٹواری اور تھانیدار کے عتاب کا نشانہ بنایا اور سیاست جو کہ خدمت خلق کا درجہ رکھتی تھی اُسے اِن لوگوں نے گالی بنا دیا۔ شریف، باوقار اور امن پسند لوگ اپنی عزتیں بچا کر پسِ پردہ چلے گئے اور برادریاں، قبیلے و معاشرہ سب اِن منافق اور ابن الوقت لوگوں کے ہاتھ لگ گیا۔ جس کا جب جی چاہا موم کی ناک کی طرح موڑ لیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ غریب، غریب تر ہوتا چلا گیا اور امیر امیر تر۔ محبتیں بتدریج ختم ہوتی گئیں اور نفرتوں کی خلیج وسیع تر ہوتی چلی گئی۔ اعتماد و بھروسے کے رشتے ناطے شک میں بدلتے گئے اور زمانہ غضب کی چال چل گیا۔
ایک زمانہ تھا جب لوگ جو اپنے گاؤں اور آس پڑوس میں موت واقع ہوجانے کی صورت میں پیار و محبت، خلوص اور جذباتی وابستگی کی بناء پر دھاڑیں مار مار کر روتے تھے، محلے اور گاؤں کے لوگ برادری اور قبیلے کے تعصب سے بالاتر ہوکر قبر کھودتے، جنازہ پڑھتے اور دفن کرواتے تھے۔ غمزدہ خاندان کا دکھ بانٹنے اور دل بہلانے کے لئے چہلم تک ہر رات بلاناغہ موت والے گھر بیٹھتے، کلمہ طیبہ اور درود و سلام کا ورد کرتے اور مرحوم کی روح کو ایصالِ ثواب پہنچانے میں پیش پیش ہوتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا گویا کسی ایک گھر یا خاندان میں موت واقع نہیں ہوئی بلکہ پورے محلے و گاؤں میں مشترکہ صفِ ماتم بچھی ہے۔ سوئم کی فاتحہ تک فوتگی والے گھر میں کھانا نہیں پکتا تھا اور پورا محلہ اور گاؤں سوگ میں ڈوبا رہتا۔
محلے کے گھر باری باری صبح کا ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا جنازے والے گھر پہنچاتے اور موت والے گھر کے رشتے داروں اور مہمانوں کو کانوں کان خبر نہیں لگنے دی جاتی تھی کہ کھانا کہاں سے آیا اور کس نے دیا۔ سوئم یا چوتھے کی فاتحہ سے لیکر پندرھویں اور چہلم تک پورا محلہ و گاؤں مل کر لکڑی، دودھ، گوشت اور دیگر لوازمات کا بندوبست کرتے تھے۔ ہر آنے والا خواہ رشتے دار ہو یا پڑوسی، محلے دار ہو یا گاؤں کے کسی آخری کونے کا باسی جب جنازے والے گھر پہنچتا تو ہاتھ میں اپنی بساط کے مطابق چینی پتی، دودھ، بسکٹ وغیرہ کچھ نہ کچھ لے کر آتا جس سے غمزدہ خاندان کے ساتھ ہمدردی اور خلوص کا اظہار بھی ہوتا اور مالی مدد بھی، مگر آج یہ وقت بھی آن پہنچا ہے کہ گاوں تو دور کی بات محلے کے لوگ بھی اُس وقت پہنچتے ہیں جب نمازِ جنازہ کی صفیں بن رہی ہوتی ہیں۔
ستم بالائے ستم اب جنازے بھی سیاسی، علاقائی اور برادری ازم کی بھینٹ چڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ اقلیتوں کے جنازے اور شادی و دیگر ہر خوشی غمی کا بائیکاٹ یہ کہہ کر کردیا جاتا ہے کہ اُس نے ہماری برادری یا لیڈر کو ووٹ نہیں دیا تھا۔ معاملہ یہی پر نہیں رکا بلکہ برادریوں اور قبیلوں کے اُن نام نہاد وڈیروں، ظالموں و جابروں نے جنازے بھی اپنے سیاسی اور معاشرتی مفادات کیلئے استعمال کرنے شروع کردئیے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب کسی کے گھر میں شادی ہو تو 1 ماہ پہلے سے تیاریاں ہوتی تھی۔ دلہا دلہن کے گھر سے ایک مرد اور ایک عورت شادی میں دعوت دینے کے لئے گاوں اور رشتے داروں کے پاس گھر گھر جاتے اور دعوت دیتے کہ مردوں کے لئے مرد اور عورتوں کو دعوت دینے کے عورتیں آیا کرتی تھیں۔ دلہن کے گھر پر مہمان ایک کپڑوں کا سوٹ، دودھ، بسکٹ یا کوئی دیگر چیز بطور مدد (پاجھی) لے جاتا تھا۔ دلہن کے گھر والوں کی طرف سے مختصر جہیز جس میں ایک لکڑی کا سادہ پلنگ، چار کرسیاں ،ایک ٹیبل اور برتنوں کا ایک سیٹ دیا جاتا تھا۔
ایک ہی گھر میں چار چار خاندان رہتے تھے۔ اُن کے بچے اکٹھے کھیلتے و پڑھتے جوان ہوتے تھے، گھر کچے لیکن لوگ سچے ہوتے تھے۔ لیکن آج وقت بدل گیا۔ دعوت شادی کارڈ کے ذریعے سے ملتی ہے جسے مل جائے وہ پریشان کہ کیسے وقت نکالا جائے اور خرچہ کس طرح سے مینج کیا جائے؟ جسے دعوتی کارڈ نہ ملے وہ خوش کہ چلو جان بچی سو لاکھوں پائے لیکن منافقت ایسی کہ سرِ راہ کہیں مل گئے تو شکوے شکایت شروع کہ بچوں کی شادی کروائی اور ہمیں بلایا تک نہیں۔ چند دن مصنوعی گلے شکوے اور پھر اپنا اپنا راستہ۔
آج بڑی بڑی حویلیاں بن گئی ہیں اور ہر گھر میں دس دس پندرہ پندرہ کمرے ہیں، لیکن اتنے بڑے گھروں میں رہنے والوں کی تعداد 10 یا 12 افراد سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اِس کے باوجود اگر گھر میں مہمان آجائیں تو ایک ہی آواز سننے کو ملتی ہے کہ گھر میں جگہ کم پڑ رہی ہے۔ شادیوں پر بے جا اخراجات، اسراف اور دکھاوا عام ہوگیا ہے۔ صرف دلہن کے سوٹ ایک ایک لاکھ تک کے بنتے ہیں اور جہیز لاکھوں میں صرف اِس لئے دیا جاتا ہے کہ سماج میں ناک اونچی رہے۔
ہم خود کو ایک پُرخلوص اور امن پسند انسانی معاشرے سے نکال کر ایک خود غرض منافق، جھوٹے، بے ایمان، نمائشی، علاقائی و برادری ازم جیسے خطرناک معاشرے میں دھکیلے جارہے ہیں جہاں سے واپسی اب ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور نظر آتی ہے۔
ہم آئے روز مذہبی، معاشرتی، اخلاقی اور انسانی اصولوں کے منافی چلتے ہوئے ایک بند گلی کی جانب بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اب بھی وقت نہیں گیا، اگر ہم سچ کو سچ، جھوٹ کو جھوٹ، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا شروع کردیں اور اپنے معاشرتی فرائض نبھانا شروع کردیں تو یقیناً اِس متعفن و بیمار معاشرے میں سدھار پیدا ہوسکتا ہے ورنہ ہماری آنیوالی نسلیں یوں ہی تباہ و برباد ہوتی چلی جائیں گیں، لہٰذا سوچیں، سمجھیں اور آگے بڑھیں کہ زمامِ وقت ابھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں